کل اور آج‌‌ اک نایاب غزل از آل احمد مسرور صاحب

وہ بھی کیا لوگ تھے آسان تھی راہیں جن کی بند آنکھیں کیے اک سمت چلے جاتے تھے عقل دِل خواب حقیقت کی نا الجھن نا خلش مختلف جلوے نگاہوں کو نا بھاتے تھے عشق سادہ بھی تھا بے خود بھی جنون پیشا بھی حُسْن کو اپنی اداؤں پہ حجاب آتا تھا پھول کھلتے تھے …مزید پڑھیں

کل اور آج‌‌