کل اور آج‌‌ اک نایاب غزل از آل احمد مسرور صاحب

وہ بھی کیا لوگ تھے آسان تھی راہیں جن کی بند آنکھیں کیے اک سمت چلے جاتے تھے عقل دِل خواب حقیقت کی نا الجھن نا خلش مختلف جلوے نگاہوں کو نا بھاتے تھے عشق سادہ بھی تھا بے خود بھی جنون پیشا بھی حُسْن کو اپنی اداؤں پہ حجاب آتا تھا پھول کھلتے تھے …مزید پڑھیں

کل اور آج‌‌

شیخ محمد ابراہیم ذوق (غزل)

جب چلا وہ مجھ کو بِسمِل خوں میں غلطاں چھوڑ کر کیا ہی پچھتاتا تھا میں قاتِل کا داماں چھوڑ کر میں وہ مجنوں ہُوں جو نِکلوں کُنجِ زِنداں چھوڑ کر سیبِ جنّت تک نہ کھاؤں سنگِ طِفلاں چھوڑ کر میں ہُوں وہ گمنام، جب دفتر میں نام آیا مِرا رہ گیا بس مُنشیِ قُدرت …مزید پڑھیں