کل اور آج‌‌ اک نایاب غزل از آل احمد مسرور صاحب

وہ بھی کیا لوگ تھے آسان تھی راہیں جن کی بند آنکھیں کیے اک سمت چلے جاتے تھے عقل دِل خواب حقیقت کی نا الجھن نا خلش مختلف جلوے نگاہوں کو نا بھاتے تھے عشق سادہ بھی تھا بے خود بھی جنون پیشا بھی حُسْن کو اپنی اداؤں پہ حجاب آتا تھا پھول کھلتے تھے …مزید پڑھیں

کل اور آج‌‌

فیض احمد فیض ( غزل )

نہ کسی پہ زخم عیاں کوئی، نہ کسی کو فکر رفوُ کی ہے نہ کرَم ہے ہم پہ حبیب کا، نہ نِگاہ ہم پہ عدُو کی ہےصَفِ زاہداں! ہے تو بے یقیں، صَفِ مے کشاں! ہے تو بے طلب نہ وہ صُبْح، وِرد و وضُو کی ہے، نہ وہ شام، جام و سبُو کی ہے​ …مزید پڑھیں

میر تقی میر ( غزل)

آئی ہے اُس کے کُوچے سے ہوکر صبا کُچھ اور کیا سر میں خاک ڈالتی ہے اب ہَوا کُچھ اور تدبِیر دوستوں کی مجھے نفع کیا کرے بیماری اور کُچھ ہے، کریں ہیں دوا کُچھ اور مستان ِعِشق و اہلِ خرابات میں ہے فرق مے خوارگی کُچھ اور ہے یہ ، نشّہ تھا کُچھ اور …مزید پڑھیں

امیر مینائی ( غزل)

نِیم جاں چھوڑ گئی نِیم نِگاہی تیری زندگی تا صد و سی سال الٰہی تیری ناز نیرنگ پہ، اے ابلقِ ایّام نہ کر نہ رہے گی یہ سفیدی یہ سِیاہی تیری دِل تڑپتا ہے تو کہتی ہیں یہ آنکھیں رو کر اب تو دیکھی نہیں جاتی ہے تباہی تیری کیا بَلا سے توُ ڈراتی ہے …مزید پڑھیں